MOJ E SUKHAN

وہ ماہتاب جب اس گھر سے گھر بدلنے لگا

وہ ماہتاب جب اس گھر سے گھر بدلنے لگا
ستارے ٹوٹ گئے آسمان جلنے لگا

ٹھہر گئے تو نہ تھا کوئی پوچھنے والا
جو ہم چلے تو زمانہ بھی ساتھ چلنے لگا

دیار درد کی رسم و رہ وفا ہے یہی
نگاہ ڈوبی دہن بھی لہو اگلنے لگا

نشانۂ ستم روزگار تھا پر اب
دکھوں کا زہر مرے جسم و جاں میں پلنے لگا

وہ تو رہا نہ وہ رستے اسی لئے منظر
ہر اک وجود نئے پیکروں میں ڈھلنے لگا

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم