MOJ E SUKHAN

وہ مرے خواب بکھرنے کا سبب پوچھتا ہے

وہ مرے خواب بکھرنے کا سبب پوچھتا ہے
غم کے دریا کے اترنے کا سبب پوچھتا ہے

پہلے تو خود ہی گیا چھوڑ کے مجھ کو تنہا
پھر مرے ٹوٹ کے گرنے کا سبب پوچھتا ہے

جب میں ناکامِ محبت ہوں تو پھر کیسی انا
آئنہ مجھ سے سنورنے کا سبب پوچھتا ہے

سانحہ ہے کے ہے تاریک یہ دنیا میری
چاند سورج سے نکلنے کا سبب پوچھتا ہے

یہ بھی کیا خوب ہے خود مجھ سے ستم گر میرا
دل کی دنیا کے اجڑنے کا سبب پوچھتا ہے

کیا عجب ہے کے لیے آنکھوں میں آنسو اپنے
میرا قاتل مرے مرنے کا سبب پوچھتا ہے

یہ بھی دیکھا ہے کے اقبال مرا قاتل بھی
یوں مرے جاں سے گزرنے کا سبب پوچھتا ہے

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم