MOJ E SUKHAN

وہ کیا طلب جو بقدر عطائے یار نہ ہو

غزل

خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہو
بہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہو

فریب خوردۂ الفت سے پوچھئے کیا ہے
وہ ایک عہد محبت کہ استوار نہ ہو

نظر کو تاب نظارہ نہ دل کو جرأت دید
جمال یار سے یوں کوئی شرمسار نہ ہو

قبا دریدہ و دامان و آستیں خونیں
گلوں کے بھیس میں یہ کوئی دل فگار نہ ہو

نہ ہو سکے گا وہ رمز آشنائے کیف حیات
جو قلب چشم تغافل کا رازدار نہ ہو

طریق عشق پہ ہنستی تو ہے خرد لیکن
یہ گمرہی کہیں منزل سے ہمکنار نہ ہو

نہ طعنہ زن ہو کوئی اہل ہوش مستوں پر
کہ زعم ہوش بھی اک عالم خمار نہ ہو

وہ کیا بتائے کہ کیا شے امید ہوتی ہے
جسے نصیب کبھی شام انتظار نہ ہو

یہ چشم لطف مبارک مگر دل ناداں
پیام عشوۂ رنگیں صلائے دار نہ ہو

کسی کے لب پہ جو آئے نوید زیست بنے
وہی حدیث وفا جس پہ اعتبار نہ ہو

جو دو جہان بھی مانگے تو میں نے کیا مانگا
وہ کیا طلب جو بقدر عطائے یار نہ ہو

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم