MOJ E SUKHAN

وہ گداگران جلوہ سر رہ گزار چپ تھے

وہ گداگران جلوہ سر رہ گزار چپ تھے
جنہیں تجھ سے تھیں امیدیں وہ امیدوار چپ تھے

وہ قطار گمرہاں تھی لئے مشعلیں رواں تھی
وہ جو منزل آشنا تھے وہ پس غبار چپ تھے

یہ عجیب سانحہ تھا جسے چشم گل نے دیکھا
کہ طیور دام دیدہ سر شاخسار چپ تھے

کسے جرأت تسلی کہ وہ بات ہی تھی ایسی
شب انتظار چپ تھی مرے غم گسار چپ تھے

ہمیں کم ملیں سزائیں کہ زیادہ تھیں خطائیں
ترے سہو کیا گنائیں ترے شرمسار چپ تھے

یہ دل و نظر فگاراں یہی تھی وہ وضع داراں
پس کوئے یار گریاں سر کوئے یار چپ تھے

ہوئی ہم پہ سنگ باری مگر اپنی وضع داری
کہ تھی شاذؔ جن سے یاری وہی اپنے یار چپ تھے

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم