MOJ E SUKHAN

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد
سحر تھی شام سے پہلے سحر ہے شام کے بعد

ہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذاب
شکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد

مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز
مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد

چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ
جلے تھے شام سے پہلے بجھے ہیں شام کے بعد

یہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے
طلوع جام سے پہلے طلوع جام کے بعد

وہی زباں وہی باتیں مگر ہے کتنا فرق
تمہارے نام سے پہلے تمہارے نام کے بعد

حیات گریۂ شبنم حیات رقص شرر
ترے پیام سے پہلے ترے پیام کے بعد

یہ طرز فکر یہ رنگ سخن کہاں قابلؔ
ترے کلام سے پہلے ترے کلام کے بعد

قابل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم