MOJ E SUKHAN

ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی

غزل

ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی
ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی

لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے
میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی

سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے
بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی

یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا
گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی

امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا
دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی

ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے
جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم