MOJ E SUKHAN

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
اس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا

تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارے
پھر کن نے لیا ، راحت و آرام ہمارا

میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس تو بولے
کیوں، کس لئے ، کس واسطے کیا کام ہمارا؟

رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑے ہیں کہیں اور
ساقی تو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا

ٹک دیکھ ادھر ، غور کر،انصاف یہ ہے واہ
ہر جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا

اے باد سحر محفل احباب میں کہو
دیکھا ہے جو کچھ حال تہ دام ہمارا

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم