MOJ E SUKHAN

ٹھہرے ٹھہرے ہوئے دو، چار بچا کر لمحے

Thehray Thehray Hoyee do chaar Bacha kar lamhay

غزل

ٹھہرے ٹھہرے ہوئے دو، چار بچا کر لمحے
بھاگتے ، دوڑتے گزرے ہیں برابر لمحے

چار لمحات جو تجھ لب سے وفا نے چھینے
چار صدیوں کے برابر تھے سراسر لمحے

وقت کی تھاپ ،جواں عشق ، تھرکتے پاؤں
پھر دھمالی ہوئے اس دل میں قلندر لمحے

رنج کی آنچ پہ چپ چاپ "سلگتے عاشق”
حسن خود کرنے کو آئے گا نچھاور لمحے

پیار کی سیپ سے لے آتےہیں غم کے موتی
درد کی جھیل کے بے چین شناور لمحے

منتظر بیٹھی ہوں جذبات میں در پر ان کے
کب مقدر ہوں مقدر کے سکندر لمحے

چاندنی رات ، اماوس میں بدل جاۓ ابھی
ایک لمحے میں بدل سکتے ہیں منظر لمحے

ہوں غزالانِ چمن خوف زدہ ، کاہے ، کیوں
کب نگل جائیں کئی شیرِ غضنفر، لمحے

عاجزی ، نرم روی ، جوہرِ عالی صاحب
بند مٹھی میں عطا ہوتے تونگر لمحے

شائستہ کنول عالی
Shaista Kanwal Aali

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم