MOJ E SUKHAN

پرند گھر پہ بلاتا ہوں، مسکراتا ہوں

پرند گھر پہ بلاتا ہوں، مسکراتا ہوں
پھر ان کو حال بتاتا ہوں، مسکراتا ہوں

میں خالی پیٹ پرندوں کو ڈال کر دانہ
خدا کا ہاتھ بٹاتا ہوں، مسکراتا ہوں

مرا خدا جو مری شاہ رگ سے واقف ہے
جب اس سے جرم چھپاتا ہوں، مسکراتا ہوں

میں روٹھ جاتا ہوں خود سے، عجیب لگتا ہے
کہ خود ہی خود کو مناتا ہوں، مسکراتا ہوں

میں اپنے دل پہ بنا کر جناب کی تصویر
جب اس کو ہاتھ لگاتا ہوں، مسکراتا ہوں

میں جانتا ہوں مرے اشک بیش قیمت ہیں
سو خود کو رو کے دکھاتا ہوں، مسکراتا ہوں

میں پہلے خود کو سمجھتا ہوں اجنبی کوئی
پھر اس سے ہاتھ ملاتا ہوں، مسکراتا ہوں

وہ جس پہ شعر کہے تھے کبھی ملا ہی نہیں
سو جب کسی کو سناتا ہوں، مسکراتا ہوں

صغیر اس نے کہا تھا ہمیشہ خوش رہنا
سو اپنا وعدہ نبھاتا ہوں، مسکراتا ہوں

کوئی بھی دیکھے تو ہنس دے کہ اپنے سینے سے
صغیر خود کو لگاتا ہوں مسکراتا ہوں

(صغیر احمد صغیر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم