MOJ E SUKHAN

پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم

غزل

پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہم
کل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہم

کوئی خطائے محبت ازل میں کر لی تھی
زبان شعر میں بھیجا ہوا خراج ہیں ہم

اس اک ہنر سے خدا سب کو فیضیاب کرے
کہ اب بھی جس کے لئے وقف احتیاج ہیں ہم

سنا ہے گھاؤ ملے ہیں تجھے بہت گہرے
تو ہم سے مل کہ ترے گھاؤ کا علاج ہیں ہم

کسی کی یاد میں عمر اپنی ہو رہی ہے بسر
کسی کے عہد وفا کی نسیمؔ لاج ہیں ہم

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم