MOJ E SUKHAN

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی

غزل

پری اڑ جائے گی اور راجدھانی ختم ہوگی
یہ آنکھیں بند ہوتے ہی کہانی ختم ہوگی

کسی صندوق میں دیمک زدہ خط دیکھتے ہی
کہا دل نے اب اس کی ہر نشانی ختم ہوگی

اسے یہ شوق گہری دھند لپٹے ہر شجر سے
مجھے یہ فکر کیسے بد گمانی ختم ہوگی

خبر کب تھی طلسم ایسا ہے اس بھیگی نظر میں
یکایک جسم سے خوں کی روانی ختم ہوگی

زمیں پر آسماں ہوتے پرندے جان لیں گے
ستاروں پر بھی آخر حکمرانی ختم ہوگی

ہماری راہ میں بیٹھے گی کب تک تیری دنیا
کبھی تو اس زلیخا کی جوانی ختم ہوگی

خدا جانے کہاں ٹوٹے مسافت کا تسلسل
پر اتنا جانتے ہیں بے مکانی ختم ہوگی

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم