MOJ E SUKHAN

پر سفر اب بھی میرا جاری ہے

دور گرچہ بہت سے دیکھے ہیں
پر سفر اب بھی میرا جاری ہے
عشق کرتا ہوں ساری دنیا سے
فیض ملتا ہے غم کے دریا سے
مجھ کو لاحق ہے یہ ہی بیماری
میرے اندر ہے جنگ اک جاری
نت نئے واقعے بھی دیکھے ہیں
ان گنت حادثے بھی دیکھے ہیں
میں نے دیکھا ہے زندگی کو بھی
موت کے سانحےبھی دیکھے ہیں
جینا سیکھا ہے مشکلوں میں بھی
زندہ رہنے کی رہ نکالی ہے
بادلوں کا غضب بھی دیکھا ہے
ڈوبتی ناؤ بھی سنبھالی ہے
دور جتنے بھی میں نے دیکھے ہیں
سب کے سب راہنما ہوئے میرے
میں نے جو کچھ بھی ان سے سیکھا ہے
وہ سبق رابطہ بنے میرے
مجھ کو بس اک طلب ہے لوگوں سے
سامنے ہو جو میرے پیچھے ہیں
اک سفر اب بھی میرا جاری ہے
دور گرچہ بہت سے دیکھے ہیں
پر سفر اب بھی میرا جاری ہے

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم