MOJ E SUKHAN

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے

غزل

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے
عجب تھکن ہے جو کام کرنے سے قبل طاری حواس پر ہے

سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی
کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے

سمندروں کے مسافرو کچھ اضافی پانی بھی ساتھ رکھنا
کہ اک جزیرہ بڑی ہی مدت سے چند قطروں کی آس پر ہے

مری محبت ابلتے الفاظ کی نہ محتاج ہے نہ ہوگی
یہ ٹھنڈا پانی گلاس میں ہے مگر پسینہ گلاس پر ہے

بدن کا ہر ایک عضو دل کا کیا کرایا بھگت رہا ہے
اس اک سٹوڈنٹ کی خطا کا عتاب ساری کلاس پر ہے

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم