MOJ E SUKHAN

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا
جہاں چلتا ہے اپنے ساتھ خالی راستہ اپنا

کسی دریا کی صورت بہہ رہی ہوں اپنے اندر میں
مرا ساحل بڑھاتا جا رہا ہے فاصلہ اپنا

لٹا کے اپنا چہرہ تک رہی ہوں اپنا منہ جیسے
کوئی پاگل الٹ کے دیکھتا ہو آئینہ اپنا

یہ بستی لوگ کہتے ہیں مرے خوابوں کی بستی ہے
گنوا بیٹھی ہوں میں بد قسمتی سے حافظہ اپنا

گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب پھل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا

فسانہ در فسانہ پھر رہی ہے زندگی جب سے
کسی نے لکھ دیا ہے طاق نسیاں پر پتہ اپنا

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم