MOJ E SUKHAN

پڑھنے کو بہت کچھ ہے کتابوں کے علاوہ

پڑھنے کو بہت کچھ ہے کتابوں کے علاوہ
کچھ اور پڑھویار نصابوں کے علاوہ

کیا اور بھی کچھ لوگ یہاں جان سے گزرے
ہم عشق زدہ خانہ خرابوں کے علاوہ

ہر روز یہاں روزِ قیامت ہے زمیں پر
اب یاد نہیں کچھ بھی عذابوں کے علاوہ

سنتے ہیں کوئی جوگی یہاں آیا ہواہے
تعبیر بتاتا ہے جو خوابوں کے علاوہ

جو ناز کو پڑھتے ہیں وہ پھولوں کی دکاں سے
کچھ اور نہیں لیتے گلابوں کے علاوہ

ناز مظفرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم