MOJ E SUKHAN

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے
کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے

مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے
کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے

دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے
ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے

میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی
کسی خیال کسی خامشی میں بکھرے ہوئے

وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ
اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے

اختر شمار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم