MOJ E SUKHAN

پکارتے پکارتے صدا ہی اور ہو گئی

پکارتے پکارتے صدا ہی اور ہو گئی
قبول ہوتے ہوتے ہر دعا ہی اور ہو گئی

ذرا سا رک کے دو گھڑی چمن پہ کیا نگاہ کی
بدل گئے مزاج گل ہوا ہی اور ہو گئی

یہ کس کے نام کی تپش سے پر پر جل اٹھے
ہتھیلیاں مہک گئیں حنا ہی اور ہو گئی

خزاں نے اپنے نام کی ردا جو گل پہ ڈال دی
چمن کا رنگ اڑ گیا صبا ہی اور ہو گئی

غرور آفتاب سے زمیں کا دل سہم گیا
تمام بارشیں تھمیں گھٹا ہی اور ہو گئی

خموشیوں نے زیر لب یہ کیا کہا یہ کیا سنا
کہ کائنات عشق کی ادا ہی اور ہو گئی

جو وقت مہرباں ہوا تو خار پھول بن گئے
خزاں کی زرد زرد سی قبا ہی اور ہو گئی

ورق ورق علیناؔ ہم نے زندگی سے یوں رنگا
کہ کاتب نصیب کی رضا ہی اور ہو گئی

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم