MOJ E SUKHAN

پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا

غزل

پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہا
جو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہا

نشتر چبھوئے اب نہ پشیمانئ نگاہ
مجھ کو تو شکوۂ خلش دل نہیں رہا

موجیں ابھار کر مجھے جس سمت لے چلیں
حد نگاہ تک کہیں ساحل نہیں رہا

کل تک تو میرے سینے میں آباد تھا مگر
لیکن کہاں گیا ہے وہ دل مل نہیں رہا

کیا کہئے اب مآل محبت کی سرگزشت
یاد اس کی رہ گئی ہے مگر دلؔ نہیں رہا

دل شاہجہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم