MOJ E SUKHAN

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی
آخری نیکی تھی ترکش میں وہ بھی کر ڈالی

ٹھہرو یہیں اے قافلے والو آیا دشت بلا
اس نے یہ کہہ کے اپنے سر پر خاک سفر ڈالی

اور کوئی دنیا ہے تیری جس کی کھوج کروں
ذہن میں پھر اک سمت بکھیری راہ گزر ڈالی

ہاتھ ہوا کے بڑھنے لگے ہیں بستی کے اطراف
دیکھو اس نے چنگاری اب کس کے گھر ڈالی

چشم فلک کا اک آنسو ہے گردش کرتی زمیں
کیا پیش آیا جو اس نے بنائے دیدۂ تر ڈالی

وقت سے پوچھو وقت سے سچا شاہد کوئی نہیں
کس نے تیغ اٹھائی رن میں کس نے سپر ڈالی

میں تو بس گوہر سے خالی ایک صدف ہوں رمزؔ
مشکل ہوگی اس نے کوئی بات اگر ڈالی

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم