MOJ E SUKHAN

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائے

پھر سر دار وفا رسم یہ ڈالی جائے
گل ہو اک شمع تو اک اور جلا لی جائے

دور کرنی ہو جو تاریکیٔ راہ اخلاص
مشعل اشک ندامت ہی جلا لی جائے

آئنہ میں نے سر راہ گزر رکھا ہے
تاکہ احباب کی کچھ خام خیالی جائے

حال یہ ترک تعلق پہ ہوا کرتا ہے
جیسے مچھلی کوئی پانی سے نکالی جائے

تو اسے اپنی تمناؤں میں شامل کر لے
ہم سے تو تیری تمنا نہ سنبھالی جائے

آپ کے اٹھنے پہ محفل کا یہ عالم پایا
جیسے ہنستے ہوئے چہروں سے بحالی جائے

خستگی دیکھی ہے جاویدؔ فصیل دل کی
اس پہ بنیاد شب غم کی نہ ڈالی جائے

ظہور الاسلام جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم