MOJ E SUKHAN

پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے

غزل

پھر کسی شخص کی یاد آئی ہے
پھر کوئی چوٹ ابھر آئی ہے

پھر وہ ساون کی گھٹا چھائی ہے
پھر مری جان پہ بن آئی ہے

مصلحت اور کہیں لائی ہے
دل کسی اور کا شیدائی ہے

اب نہ رونے کی قسم کھائی ہے
آنکھ بھر آئے تو رسوائی ہے

ایک ہنگامۂ دیدار کے بعد
پھر وہی غم وہی تنہائی ہے

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم