MOJ E SUKHAN

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں

جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر
کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں

ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ
گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں

ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر دیکھ مجھ سے کچھ نہ پوچھ
کیوں افق پر پھیلتی صبحوں سے ڈر جاتا ہوں میں

بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں

خوف کی یہ انتہا صدیوں سے آنکھیں بند ہیں
شوق کی یہ ابلہی بے بال و پر جاتا ہوں میں

عرشؔ رسموں کی پنہ گاہیں بھی اب سر پر نہیں
اور وحشی راستوں پر بے سپر جاتا ہوں میں

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم