MOJ E SUKHAN

پھولوں جیسا جسم ہے اس کا نازک نازک ہاتھ

غزل


پھولوں جیسا جسم ہے اس کا نازک نازک ہاتھ
دیکھ کے اس کو کیسے رہیں گے قابو میں جذبات

جس نے ہم کو چھوڑ دیا تھا تنہا کرکے دوست
وقت ملا تو ہم بھی اس سے پوچھیں گے حالات

ایسا نئیں ہے اس کا مجھ پر رعب چلے ہر وقت
کاٹ بھی سکتا ہوں میں اس کی اچھی خاصی بات

اکثر ایسا ہوجاتا ہے ہم دونوں کے بیچ
میں قرطاس پہ رکھ دیتا ہوں آنکھیں اور وہ ہاتھ

دشمن بھی وہ دوست بنے ہیں میرے دوست ندیم
جس دن نکلوں گا میں گھر سے لگ جائے گی گھات

ندیم ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم