MOJ E SUKHAN

پھولوں کی چاند تاروں کی محفل فریب ہے

غزل

پھولوں کی چاند تاروں کی محفل فریب ہے
رنگیں حقیقتوں میں بھی شامل فریب ہے

پانی کے مد و جزر کو سمجھا ہے زندگی
موجیں بھی ہیں فریب جو ساحل فریب ہے

رنگینئ حیات کا عالم نہ پوچھیے
ہر آرزو فریب ہے ہر دل فریب ہے

محسوس دل میں درد سا ہونے لگا ہے کیوں
کیا پیار کی نظر میں بھی شامل فریب ہے

بس رک گیا تو رک گیا الفت کی راہ میں
منزل نہ کر قبول کہ منزل فریب ہے

ان کی نگاہ لطف ہے عارفؔ کی زندگی
کیا غم اگر حیات میں شامل فریب ہے

عارف نقشبندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم