MOJ E SUKHAN

پھول ، خوشبو ، بہار کا موسم

غزل

پھول ، خوشبو ، بہار کا موسم
یعنی ان سے ہے پیار کا موسم
وہ کلی پھول بن نہیں سکتی
جو رکھے انتظار کا موسم
علم کھلتا ہے ایسے لوگوں پر
جو سمجھتے ہیں ہار کا موسم
پھر کسی پر نہیں رکھا میں نے
کوئی بھی اعتبار کا موسم
آپ پھیلا رہے ہیں لوگوں میں
خوا مَخواہ انتشار کا موسم
اب تو آنکھیں ترس گئی میری
دیکھنے کو سدھار کا موسم
جو دیا واپسی کیا میں نے
بے دھڑک آہ و زار کا موسم
میرے ہاتھوں میں دے دیا اس نے
آج سے اختیار کا موسم
اب تو ہنستی ہوں سوچ کر میں عمود
دلِ ناکَردَہ کار کا موسم
عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم