MOJ E SUKHAN

پھول سے ہار بنا لیتے ہیں

پھول سے ہار بنا لیتے ہیں
چل تجھے یار بنا لیتے ہیں

گوند لیتے ہیں ذرا سی مٹی
اورشہکار بنا لیتے ہیں

بھائی ہر روز جھگڑتے کیوں ہو
گھر میں دیوار بنا لیتے ہیں

یوں بناتے ہیں ترے گرد حصار
جس طرح خار بنا لیتے ہیں

کیسی بھی شکل بنانی ہو ہمیں
ہم اداکار بنا لیتے ہیں

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم