MOJ E SUKHAN

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا

غزل

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا
اک شخص میری روح پہ نشتر چلا گیا

مجھ سے خطا ہوئی تھی کہ ایسی مرا خدا
ناراض ہو کے شہر سے باہر چلا گیا

شیشے لہولہان پڑے ہیں جو فرش پر
کھڑکی پہ کوئی مار کے پتھر چلا گیا

باہر کا شور اتنا گراں تھا کہ بہر امن
ہر شخص اپنی ذات کے اندر چلا گیا

ٹھہرا تھا آ کے ایک مسافر کبھی یہاں
پھر شہر تن کو آگ لگا کر چلا گیا

کابک کو خالی دیکھ کے کڑھتا ہے دل مرا
جانے کہاں سفید کبوتر چلا گیا

سورج بھی تھک کے ڈوب گیا شام ہو گئی
دن بھر جو میرے ساتھ تھا وہ گھر چلا گیا

آخر سروں پہ دھوپ کی دیوار گر پڑی
اچھا ہوا میں سائے سے اٹھ کر چلا گیا

نقاشؔ دل میں پیاس کی کیلیں گڑی رہیں
قدموں میں آ کے ایک سمندر چلا گیا

نقاش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم