MOJ E SUKHAN

پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں

غزل

پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں
میں باغ کے اجڑے ہوئے گوشے کی طرح ہوں

تو دل میں اترتی ہوئی خوشبو کی طرح ہے
میں جسم سے اترے ہوئے کپڑے کی طرح ہوں

کچھ اور بھی دن مجھ کو سمجھنے میں لگیں گے
میں خواب میں دیکھے ہوئے رستے کی طرح ہوں

سایہ سا یہ کس چیز کا ہے میرے وطن پر
میں کیوں کسی سہمے ہوئے قصے کی طرح ہوں

میں ماں ہوں ستائی ہوئی حد درجہ بہو کی
اور بیٹے پہ آئے ہوئے غصے کی طرح ہوں

ہو جائیں کبھی جا کے وہیں سندھ کنارے
باتیں کوئی دو چار جو پہلے کی طرح ہوں

اب تو کسی مہکار کی یادوں کا سفر ہے
اور میں کسی بھولے ہوئے قصے کی طرح ہوں

جس میں کوئی در ہے نہ دریچہ نہ مکیں ہے
اس گھر پہ لگائے ہوئے پہرے کی طرح ہوں

کیا ہوگی تلافی مرے نقصان کی اخترؔ
میں قید میں گزرے ہوئے عرصے کی طرح ہوں

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم