MOJ E SUKHAN

پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیں

غزل

پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیں
درختوں پر لرز کر بجھ رہی ہیں آخری کرنیں

بہت ہی سرد ہے اب کے دیار شوق کا موسم
چلو گزرے دنوں کی راکھ میں چنگاریاں ڈھونڈیں

بھلا پتھر بھی روتے ہیں کبھی شیشے کے زخموں پر
اگر ہوتا ہے ایسا تو حساب دوستاں بھولیں

سواد شام میں ڈھونڈیں کوئی مانوس سا چہرہ
ہوا کی رہ گزر پہ ایک ننھا سا دیا رکھیں

کہاں الفاظ دیتے ہیں ہمارا ساتھ اب فکریؔ
کہے اشعار سب بے جاں ہوئیں بے کار سب غزلیں

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم