MOJ E SUKHAN

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے

غزل

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے
دکھ سے دل آباد ہمیشہ رہتا ہے

پاس رہیں یا دور مگر ان آنکھوں میں
موسم ابر و باد ہمیشہ رہتا ہے

قید کی خواہش اس کا دکھ بن جاتی ہے
جو پنچھی آزاد ہمیشہ رہتا ہے

ایک گل بے مہر کھلانے کی خاطر
قریۂ دل برباد ہمیشہ رہتا ہے

اس کے لیے میں کیا کیا سوانگ رچاتا ہوں
وہ پھر بھی ناشاد ہمیشہ رہتا ہے

پاؤں تھمیں تو کیسے صابرؔ اپنے ساتھ
ایک سفر ایجاد ہمیشہ رہتا ہے

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم