MOJ E SUKHAN

پہلے اک عمر تجھ کو سوچیں گے

پہلے اک عمر تجھ کو سوچیں گے
پھر غزل تیرے نام لکھیں گے

لب تو خاموش کر لئے ہم نے
کس طرح آنسوؤں کو روکیں گے

رکھ کے اس دل پہ ایک کوہِ گراں
کر کے ہم انتظار دیکھیں گے

جو بھی پرسانِ حال ہیں میرے
لب سئے میرے پاس آئیں گے

ڈھونڈنے کو وفاؤں کے موتی
ایک دن اس گلی کو لوٹیں گے

گو یہ مشکل سہی مگر اے دوست
ہم تمہارے بغیر جی لیں گے

رسمِ منصور یوں نبھائیں گے
بڑھ کے دار و رسن کو چومیں گے

منصور سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم