MOJ E SUKHAN

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے

غزل

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے
یوں سمجھو بلی کے بھاگوں ٹوٹا چھیکا لگتا ہے

پھیکا لنچ اور ڈنر بھی عمدہ اور تیکھا لگتا ہے
نقلی تیل میں تلا سموسہ اصلی گھی کا لگتا ہے

شادی ایک چیونگم ہے جو پہلے میٹھا لگتا ہے
پھر منہ میں جتنا گھولو گے اتنا پھیکا لگتا ہے

عقد ہوا جب میرا اس دم کوئی چھینکا لگتا ہے
آئینے میں میرا چہرہ اور کسی کا لگتا ہے

محفل میں جب گھورا ان کو ایک سہیلی یوں بولی
بیوی کو تکتا رہتا ہے موا ندیدہ لگتا ہے

ؔخواہ مخواہ نہ میرا ہی نہ اور کسی کا لگتا ہے
جتنے شوہر بیٹھے ہیں یہ حال سبھی کا لگتا ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم