MOJ E SUKHAN

پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے

پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے
اس کے بعد ہی گریہ زاری ہوتی ہے

دن بھی ان کا روتے روتے کٹتا ہے
دیوانوں پر رات بھی بھاری ہوتی ہے

کھل جائے خود پھول کہاں یہ ممکن ہے
بادِ صبا کی کار گذاری ہوتی ہے

ایسے گھر کو تنہا چھوڑ نہیں سکتے
جانے سے پہلے تیاری ہوتی ہے

پھولوں سے بھی چوٹ بدن پر لگتی ہے
ضرب تو آخری ضرب ہے کاری ہوتی ہے

تم یہ آنسو جانے کہاں سے لے آئے
جوئے خون تو دل سے جاری ہوتی ہے

تنہائی کچھ اور اذیت دیتی ہے
جب بھی ہمراہ خلقت ساری ہوتی ہے

موت کو مشکل لوگ سمجھتے ہیں لیکن
جینے میں کیا کم دشواری ہوتی ہے

دیکھیں کون اٹھا سکتا ہے، غم کا بوجھ
دیکھیں کس پر رقت طاری ہوتی ہے

چلتے چلتے گر جاتی ہوں رستے میں
خوابوں میں بھی ناہمواری ہوتی ہے

دل کا دشمن اُس سے بڑھ کر کیا ہو گا
جس پر ہر ہر دھڑکن واری ہوتی ہے

تم نے کب رکھا ہے میرے دل پر ہاتھ
تم سے تو بس دل آزاری ہوتی ہے

شائستہ سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم