پہلے پہل تو وحشت طاری ہوتی ہے
اس کے بعد ہی گریہ زاری ہوتی ہے
دن بھی ان کا روتے روتے کٹتا ہے
دیوانوں پر رات بھی بھاری ہوتی ہے
کھل جائے خود پھول کہاں یہ ممکن ہے
بادِ صبا کی کار گذاری ہوتی ہے
ایسے گھر کو تنہا چھوڑ نہیں سکتے
جانے سے پہلے تیاری ہوتی ہے
پھولوں سے بھی چوٹ بدن پر لگتی ہے
ضرب تو آخری ضرب ہے کاری ہوتی ہے
تم یہ آنسو جانے کہاں سے لے آئے
جوئے خون تو دل سے جاری ہوتی ہے
تنہائی کچھ اور اذیت دیتی ہے
جب بھی ہمراہ خلقت ساری ہوتی ہے
موت کو مشکل لوگ سمجھتے ہیں لیکن
جینے میں کیا کم دشواری ہوتی ہے
دیکھیں کون اٹھا سکتا ہے، غم کا بوجھ
دیکھیں کس پر رقت طاری ہوتی ہے
چلتے چلتے گر جاتی ہوں رستے میں
خوابوں میں بھی ناہمواری ہوتی ہے
دل کا دشمن اُس سے بڑھ کر کیا ہو گا
جس پر ہر ہر دھڑکن واری ہوتی ہے
تم نے کب رکھا ہے میرے دل پر ہاتھ
تم سے تو بس دل آزاری ہوتی ہے
شائستہ سحر