پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں
اور کچھ فاصلےبھی رکھے ہیں
روز ہوتے ہیں دو بہ دو ان سے
دل تو پیہم ملے بھی رکھے ہیں
چاہتوں میں کمی جو پائی کبھی
درمیاں سب گلے بھی رکھے ہیں
ایک دوجے کی ٹال دی ہنس کر
ہم نے یہ حوصلے بھی رکھے ہیں
ان سے خاور ہزار شکوے سہی
دوستی کے صلے بھی رکھے ہیں
خاور کمال صدیقی