MOJ E SUKHAN

پیش نظر نہیں ہے جو کچھ دن سے روئے دوست

غزل

پیش نظر نہیں ہے جو کچھ دن سے روئے دوست
بے چین کر رہی ہے بہت آرزوئے دوست

آنکھوں سے دور ہو بھی گئے وہ تو کیا ہوا
دل میں بسی ہوئی ہے تمنائے روئے دوست

گلزار عاشقی کی فضا پر بہار ہے
پھیلا ہوا ہے چار طرف رنگ و بوئے دوست

کانوں میں آ رہی ہے برابر وہی صدا
بھولی نہیں ہے دل کو مرے گفتگوئے دوست

گونجی ہوئی فضا میں ہے وہ صوت جاں نواز
اللہ رے لطف و سوز نوائے گلوئے دوست

ہیں منعکس تمام نقوش جمال یار
دل ایک آئنہ ہے کہ ہے روبروئے دوست

ہر دم بہار جلوۂ جاناں ہے نو بہ نو
حیراں ہوں دیکھ دیکھ کے جوش نموئے دوست

پروا نہیں جو راہ محبت میں سر گیا
ہم جان دے کے ہو تو گئے سرخ رو ئے دوست

اقرار میں تو خیر نمایاں تھا لطف یار
انکار میں بھی ہائے وہ طرز نکوئے دوست

دیوانگی میں ہم نے یہ دل سے کہا تھا کل
تجھ کو قسم ہے آج سے دیکھے جو روئے دوست

لیکن جنون شوق کی آئی جو ایک لہر
مستانہ وار چل ہی دیے ہم بکوئے دوست

زاہد فریب ساغر کوثر جلیلؔ کو
جو کر چکا ہے بیعت جام و سبوئے دوست

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم