MOJ E SUKHAN

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

غزل

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو
نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے

کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحل مراد
دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے

وہ طول عمر جس میں نہ ہو لطف زندگی
مل جائے مثل خضر تو کیا فائدہ مجھے

دوں تیرا ساتھ عمر رواں کس طریق سے
آنکھیں دکھا رہے ہیں ترے نقش پا مجھے

تخلیق کائنات کو سوچا کیا مگر
کچھ ابتدا ملی نہ صفیؔ انتہا مجھے

صفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم