MOJ E SUKHAN

پیڑ پودوں پہ جمی گرد ہٹانے کے لیے

پیڑ پودوں پہ جمی گرد ہٹانے کے لیے
بارشیں آتی ہیں دھرتی کو سجانے کے لیے

جس کے سائے میں ٹہرتے تھے مسافر آکر
پیڑ کاٹا وہ گیا آگ جلانے کے لیے

اپنے بچےکے سسکنے کی صدائیں سن کر
دوڑ کر آئ ہے ماں جھولا جھلانے کے لیے

مجھ کو معلوم ہے تُو ساتھ رقیبوں کے ہے کیوں
ان کی نظروں میں مجھے نیچا دکھانے کے لیے

اپنے دامن میں چمکتے ہوئے تارے لے کر
گیسوئے شب کو چلا چاند سجانے کے لیے

آج جنگل میں ہر اک اورسے بلبل تجھ کو
جال صیاد نے ڈالا ہے پھنسانے کے لیے.

ظہیرالدین شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم