غزل
پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں
ان کو پانا کوئی مشکل نہیں مر تو جائیں
یہ فضائے سحر و شام نکھر جائے گی
ان کی زلفیں مرے ہاتھوں سے سنور تو جائیں
چھیڑتے رہتے ہیں حالات کے نشتر ہر وقت
ورنہ زخموں کے دہن آپ ہی بھر تو جائیں
نام تک شہر کا اپنے ہمیں اب یاد نہیں
کارواں راہ میں ہم چھوڑ کے گھر تو جائیں
کون کہتا ہے کہ ہوتی نہیں اشکوں کی زباں
لوگ اس بزم میں با دیدۂ تر تو جائیں
دور رہ کر وہ مجھے یاد بھی کیوں آتے ہیں
پھول شاخوں سے جدا ہو کے بکھر تو جائیں
خلد دل خلد نظر دور نہیں ہے شاداںؔ
ہاتھ اپنے کبھی تا پردۂ در تو جائیں
شاداں بدایونی