MOJ E SUKHAN

چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی

غزل

چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی
میری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگی

چپ کی چادر اوڑھ تو لی ہے پاؤں چھپیں سر کھل چائے
محرومی کی دھوپ نہ جانے کب سے آوازوں میں لگی

ان سے ظلمت دشت مقدر اور سیاہ نہ ہو جائے
چھوڑ نہ دیتا چاند کرنیں تم اپنے خوابوں میں لگی

مجھ سے میرے اپنے لوگ بھی رہتے ہیں بیگانے سے
میرے نام کی کون سی تہمت ان کے اندازوں میں لگی

اس موسم میں ڈالی ڈالی برف کے اتنے پھول کھلے
رنگ و تپش سے محرومی کی شاخ مرے جذبوں میں لگی

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم