MOJ E SUKHAN

چار غزلوں کے علاوہ کوئی جاگیر نہیں

Chaar Ghazloo kay ilawa koi Jageer Nahi

غزل

چار غزلوں کے علاوہ کوئی جاگیر نہیں
یہ خوشی ایسی ہے جس کی کوئی تفسیر نہیں

لے ہی آؤں گا ہتھیلی کی لکیروں میں تجھے
مصلحت نام کی اب پیروں میں زنجیر نہیں

اب تو رکھنے لگے اس دل کا مرے زخم خیال
یعنی اب سامنے تو ہے تری تصویر نہیں

میرے خوابوں کا ہوا قتل مری آنکھوں میں
سانحہ ہے یہ مگر قابلِ تشہیر نہیں

اس نے دیکھا ہے مری سمت عجب نظروں سے
یہ کسی طور مرے خواب کی تعبیر نہیں

ایسا ممکن ہی نہیں زخم پہ مرہم نہ رکھے
اتنی کم ظرف تو اس عشق کی تاثیر نہیں

آخری چال چلوں گا میں یہاں اپنے خلاف
کیونکہ اب ساتھ مرے میری ہی تقدیر نہیں

آہ کو عکس کیا سوچ کو تسخیر کیا
میں وہ معمار ہوں جو قابلِ توقیر نہیں

شاخِ حسرت پہ نظر آئے ہیں امید کے پھول
یہ محبت کا فسوں ہے کوئی تدبیر نہیں

آج اک موجِ نسیمی نے کیا میرا طواف
قابلِ فکر ہے یہ حاصلِ تحریر نہیں

نسیم شیخ

Naseem Shaikh

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم