MOJ E SUKHAN

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم
شائد اسی لئے ہے گلہ کم بہت ہی کم

تھے دوسرے بھی تیری محبت کے آس پاس
دل کو مگر سکون ملا، کم، بہت ہی کم

جلتے سنا چراغ سے دامن ہزار بار
دامن سے کب چراغ جلا، کم بہت ہی کم

یوں مت کہو، خزاں کہ بہت دیر ہو گئ
ہیں آج کل وہ تم سے خفا کم، بہت ہی کم

محبوب خزاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم