MOJ E SUKHAN

چراغوں کے بجھانے کو ہوا بے اختیار آئی

چراغوں کے بجھانے کو ہوا بے اختیار آئی
گلابوں کی مہک بکھری تو آواز شرار آئی

بگولوں نے سفر میں آندھیوں کا آسماں دیکھا
مگر اک فاختہ اپنے شجر تک بے غبار آئی

جسے تو نے اجالا جان کر چہرے پہ لکھا تھا
وہی شہرت تری رسوائیوں کے ہمکنار آئی

اندھیروں میں مجھے خود اک ستارہ ڈھونڈنے آیا
کہ شہر بے ہنر سے اک صدائے اعتبار آئی

مری آنکھوں میں جتنے رنگ تھے سب جل گئے جاذبؔ
مگر وہ مجھ سے ملنے جب بھی آئی بے قرار آئی

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم