MOJ E SUKHAN

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں

غزل

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں
یہ ہم سے پوچھ جو ایسی زباں سمجھتے ہیں

بہا کے لے گیا سب خد و خال عہد شباب
ہم آئینے کو بھی آب رواں سمجھتے ہیں

ہمیں ازل سے محبت سکھائی جاتی ہے
ہم اہل حرف یہی اک زباں سمجھتے ہیں

جہاں یقیں کے تجسس کی آنکھ بند نہ ہو
اسے علاقۂ وہم و گماں سمجھتے ہیں

اٹھا چکا ہے تکلم تمام پردے مگر
ہم ان کہی کو ابھی درمیاں سمجھتے ہیں

تباہ کی گئی دنیاؤں کا غبار نہ ہو
ہم اہل خاک جسے کہکشاں سمجھتے ہیں

ہمارا بوجھ کسی اور نے اٹھایا نہیں
تو ہم بھی کیا اسے بار گراں سمجھتے ہیں

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم