MOJ E SUKHAN

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی

غزل

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی
یہ وہ صدا تھی جو مجھے بار گلو لگی

کیا کیا نہ مس کیا تجھے میں نے فراق میں
لیکن تری کمی جو ترے روبرو لگی

میں تب قرار دوں گا تجھے اپنا ہم سخن
جب میری خامشی بھی تجھے گفتگو لگی

اب گھر کے رہ گیا ہوں عجب ازدحام میں
ہر آرزو کی پشت سے ہے آرزو لگی

اے حسرت کمال کچھ اپنا خیال کر
مر ہی نہ جائے یوں مرے سینے سے تو لگی

بدنام ہو گئے ہیں جسے لکھ کے آج ہم
کل دیکھئے گا فلم یہی کو بہ کو لگی

برداشت کا عذاب مری خامشی سے پوچھ
توپیں صداؤں کی ہیں مرے چار سو لگی

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم