MOJ E SUKHAN

چلتا ہے دور دور ہر اک میری راہ سے

چلتا ہے دور دور ہر اک میری راہ سے
جس دن سے گر گیا ہوں تمہاری نگاہ سے

واقف نہیں ہے عشق کی وہ رسم و راہ سے
دشمن کو دیکھنا نہ کبھی اس نگاہ سے

ان کے بغیر یہ مرے دن رات اے فلک
روشن کبھی نہ ہونگے ترے مہر و ماہ سے

ہو کر وہ بے نقاب نہ آئیں گے سامنے
واقف نہیں ہیں کیا مرے ذوقِ نگاہ سے

پیشِ نظر ہے منظرِ کونین جب یہیں
جاؤں کہاں پھر اٹھ کے تری جلوہ گاہ سے

آئینہ دار حسنِ تغافل ہے آپ کا
نظریں نہ پھیریے مرے حالِ تباہ سے

ثابت کریں تو عیش پہ ہو جرمِ عاشقی
تصدیق کر رہے ہیں وہ اک اک گواہ سے

عیش ٹونکی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم