MOJ E SUKHAN

چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے

چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے
جو میرے جسم میں رہتا ہے میری جان سے پہلے

کوئی خاموش ہوجائے تو اس کی خامشی سے ڈر
سمندر چپ ہی رہتا ہے کسی طوفان سے پہلے

مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دو
نکل جائے نہ میری جاں مرے ارمان سے پہلے

مری آنکھوں میں آبی موتیوں کا سلسلہ دیکھو
کہ سو تسبیح کرتا ہوں میں اک مسکان سے پہلے

پرانا یار ہوں دوشی مرا یہ فرض بنتا ہے
تجھے ہشیار کردوں میں ترے نقصان سے پہلے

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم