MOJ E SUKHAN

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

غزل

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا
مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا

یہ بھی بہت ہے سینکڑوں پودے ہرے ہوئے
کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا

ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے
دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا

سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ
ڈھونڈوگے تیرگی میں کہ سایہ کدھر گیا

ہم جس کے انتظار میں جاگے تمام رات
آیا بھی وہ تو خواب کی صورت گزر گیا

ہم نے تو گل کی چاند کی تارے کی بات کی
سب اہل انجمن کا گماں آپ پر گیا

گھر ہی نہیں رہا ہے سلامت بتائیں کیا
جاویدؔ کے بعد سیل بلا کس کے گھر گیا

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم