MOJ E SUKHAN

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی

چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی
خوش بو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی

اللہ رکھے اس کا سلامت غرورِ حسن
آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی

گلشن میں دیکھ کر مرے مستِ شباب کو
شرمائی جاری ہے جوانی بہار کی

اے میرے دل کے چین مرے دل کی روشنی
آ اور صبح کر دے شبِ انتظار کی

جرأت تو دیکھیے گا نسیم بہار کی
یہ بھی بلائیں لینے لگی زلفِ یار کی

اے حشرؔ دیکھنا تو یہ ہے چودھویں کا چاند
یا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی

آغا حشر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم