غزل
چھوڑو قصّہ پُرانا کچھ نئی بات کرو
لوگوں کو تم اب بھُولو مری بات کرو
ناسمجھی اب جانے بھی دو میرے دوست
تم پھر عقل کی کوئی تو کبھی بات کرو
ناز اُٹھائے ہیں میں نے تیرے کتنے
سب کے سامنے مانو پھر یہی بات کرو
راز نہ کھولو سارے زمانے کے آگے
دنیا کے آگے تم مخفی بات کرو
تم یوں بھلا دو تلخیاں زیست کی اس ہی طور
صاف کرو دل چھوڑو کیوں گئی بات کرو
کتنی محبت تم سے ہے ہمیشہ ثمرؔ کو رہی
اے ہمدم نفرت کی نہ اب کبھی بات کرو
ثمرین ندیم ثمر