غزل
چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں
کام اچھا ہے مگر اس کا مآل اچھا نہیں
ان سے جو کہنا ہے اے دل کہہ سمجھ کر سوچ کر
یہ بھی کچھ کہنے میں کہنا ہے کہ حال اچھا نہیں
اے دل برباد اب ہم سے گلہ بے سود ہے
ہم تو کہتے تھے محبت کا مآل اچھا نہیں
ہنس رہا ہوں اس لئے اپنے دل برباد پر
ایک محسن کی عنایت پر ملال اچھا نہیں
دور دور ان سے رہے ہم خود غرور عشق میں
کون اب ان سے کہے جا کر کہ حال اچھا نہیں
دل کی خاطر ہی کیا تھا ترک الفت کا خیال
دل ہی اب کہتا ہے مجھ سے یہ خیال اچھا نہیں
ابر بھی میری طرح روتا ہی رہتا ہے مدام
اس کے بھی طالع میں شاید کوئی سال اچھا نہیں
ہے طلب تجھ کو تو پھر حسن طلب سے کام لے
لب پہ آ جائے اگر حرف سوال اچھا نہیں
کیا کہوں ساحرؔ کہ اب کیسا زمانہ آ گیا
دشمنی کیا دوستی کا بھی مآل اچھا نہیں
ساحر سیالکوٹی