MOJ E SUKHAN

چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں

غزل

چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں
کام اچھا ہے مگر اس کا مآل اچھا نہیں

ان سے جو کہنا ہے اے دل کہہ سمجھ کر سوچ کر
یہ بھی کچھ کہنے میں کہنا ہے کہ حال اچھا نہیں

اے دل برباد اب ہم سے گلہ بے سود ہے
ہم تو کہتے تھے محبت کا مآل اچھا نہیں

ہنس رہا ہوں اس لئے اپنے دل برباد پر
ایک محسن کی عنایت پر ملال اچھا نہیں

دور دور ان سے رہے ہم خود غرور عشق میں
کون اب ان سے کہے جا کر کہ حال اچھا نہیں

دل کی خاطر ہی کیا تھا ترک الفت کا خیال
دل ہی اب کہتا ہے مجھ سے یہ خیال اچھا نہیں

ابر بھی میری طرح روتا ہی رہتا ہے مدام
اس کے بھی طالع میں شاید کوئی سال اچھا نہیں

ہے طلب تجھ کو تو پھر حسن طلب سے کام لے
لب پہ آ جائے اگر حرف سوال اچھا نہیں

کیا کہوں ساحرؔ کہ اب کیسا زمانہ آ گیا
دشمنی کیا دوستی کا بھی مآل اچھا نہیں

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم